About Qari Abdul Basit Abdus-Samad

Abdul Basit Abdus-Samad was born in a small village called Armant in Egypt in 1927, Qari Abdul-Basit ‘Abdus-Samad, or simply known as Abdul Basit was a renowned Qari. He was mesmerized by the recitation of Muhammad Rifat and succeeded in memorizing the Qur’an in all the seven different styles. He led the Tarawih at the young age of 14 in local mosques during Ramadan. His listeners were always captivated by his recitation, tone and the application of the rules of Tajweed. Best known for his recitation of Surah Fatihah, his style is quite unique due to which he won three world Qirat competitions in the 1970s.

Abdul-Basit travelled extensively outside Egypt; in 1961, he recited at the Badshahi Masjid, in Lahore, Pakistan as well as reciting in one of the biggest Madrasa’s in Bangladesh, Al-Jamiatul Ahlia Darul Ulum Moinul Islam in Chittagong. He visited Indonesia (1964/1965 ), Jakarta, and recited the Qur’an in that country’s biggest Mosque.

He died of an illness, not due to an accident. Most sources claim he died in a car crash, which has been disproved. Seven days before his death, ‘Abdus-Samad was admitted to one of the best hospitals in London. The exact date of his death has been confirmed to be on Wednesday, November 30, 1988, and he has been survived by his three sons (from oldest to the youngest): Yasir, Hisham, and Tariq. Following his father’s footsteps, Yasir also became a Qari, but can never match the legacy of his father, who is widely believed to be one of the best Qaris ever.

قاری عبد الباسط (پیدائش: 1927ء – وفات: 30 نومبر 1988ء) یا قاری عبد الباسط بن عبد الصمد (عربی میں مکمل نام: الشیخ عبد الباسط بن محمد بن عبد الصمد بن سليم ) قرآن کے مشہور ترین قاریوں میں سے تھے۔ ان کا تعلق مصر سے تھا۔ وہ 1927ء میں مصر کے ایک چھوٹے شہر المراعزۃ میں پیدا ہوئے۔ شیخ محمد الامیر کی شاگردی میں قرآن حفظ کیا۔ قرأت محمد سلیم حمادۃ سے سیکھی۔ ان کی پہلی مشہور قرأت یا تلاوت 1951ء میں مصر کے ریڈیو قاہرہ پر تھی جس میں انہوں نے سورۃ فاطر کی قرأت کی جو بہت مشہور ہوئی۔ 1952ء میں انہوں نے مسجد شافعی اور مسجد امام حسین علیہ السلام قاہرہ میں بہت بڑے مجمعوں کے سامنے قرأت کی جو بین الاقوامی شہرت کا سبب بنی۔ مصر کی حکومت نے انہیں کتاب اللہ کے سفیر کا خطاب دیا۔ ان کی وجہ سے مصر اور باقی دنیا کے جوانوں میں تجوید کا شوق پروان چڑھا۔ 1961ء میں وہ پاکستان بھی تشریف لے گئے جہاں بادشاہی مسجد لاہور میں انہوں نے سورۃ الرحمٰن کی تلاوت کی جو پاکستان میں بہت مقبول ہوئی۔ ان کا سانس بہت لمبا تھا اور انہیں سانس لیے بغیر بڑی لمبی آیات تلاوت کرنے میں مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے بے شمار ممالک میں قرآن کی قرأت کا شرف حاصل کیا۔

ملکہ الزبتھ دوم
ملکہ الزبتھ دوم قاری عبد الباسط کی تلاوت بہت پسند تھی۔ وہ جب بھیترکی کا دورہ کرتیں تو قاری صاحبؒ سے سورۃ الرحمٰن کی تلاوت فرمائش کرکے سنتیں۔

جنرل محمد ضیاء الحق کی وفات پر قاری عبد الباسط پاکستان دوبارہ تشریف لے گئے اور بیماری و ضعف عمری کے باوجود سورۃ شمس کی تلاوت کی۔ مصر واپس لوٹے تو بیماری شدت اختیار کر گئی۔ قاہرہ کے ایک ہسپتال میں چند دن زیر علاج رہے اور 30 نومبر 1988ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔